ہماری قیمت:
USD 6.94
یہ اس بہادر باپ کی شیر دل بیٹی کی کہانی ہے جسے اس بات کا یقین تھا کہ اس کے بزدل قاتل اسے مار دیں گے لیکن اس نے سرنڈر کرنا نہیں سیکھا تھا۔ اسے مسلسل دھمکیاں دی جا رہی تھیں لیکن وہ دھمکیوں کو خاطر میں لانے والی نہیں تھی۔ خوف تو اسے چھو کر نہیں گزرا تھا۔ آپ جانتے ہیں
محترمہ بینظیر بھٹو نے مارک سیگل کو خفیہ خط میں کیا لکھا تھا؟ اپنی موت کے بعد ہی کیوں خط کے مندرجات بتانے کی اجازت دی تھی ؟
کیا زندگی کی تمام تر رعنائیوں سے بھر پور 21ویں صدی کی اس نابغہ روزگار کو حکومت پاکستان کے دعوے کے مطابق بیت اللہ محسود نے شہید کیا؟....طالبان نے مارا؟....یا پھر...وہ وحشی درندے کوئی اور تھے .....یہ کتاب ان خفیہ چہروں کو بے نقاب کرتی ہے جنہوں نے چاروں صوبوں کی زنجیر توڑنے کی کوشش کی جنہوں نے ملکی وحدت کی علامت محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کیا اور یہ جانا کہ ان کے خونی چہرے بے نقاب نہیں ہوں گے لیکن وہ نہیں جانتے کہ اپنے قاتلوں کو محترمہ بینظیر بھٹو مرنے سے پہلے بے نقاب کر گئی تھیں۔
آئیے آپ بھی ان کے مکروہ چہرے دیکھ لیجئے!