ہماری قیمت:
USD 4.86
افسانہ نگاری کی دنیا میں خالدہ حسین کانام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔خالدہ حسین کا نام پہلی بار ادبی افق پر 1960 کی دہائی میں ابھرا جب افسانے میں علامت نگاری کا رجحان زوروں پر تھا۔خالدہ حسین کا کمال یہ ہے کہ اس نے علامت نگاری کے زمانہ عروج میں رہ کر افسانے کا موضوع اور اسلوب کا رخ حقیقت نگاری اور فطرت نگاری کی طرف کامیابی سے موڑ دیا۔اس کے بعد وہ ایک لمبے عرصے سے منظر سے غائب رہیں۔اور اب دوبارہ وہ اپنے نئے افسانوی مجموعہ کے ساتھ ظہور پذیر ہوئی ہیں۔زیر نظر مجموعہ ان کے پندرہ افسانوں اور دیگر عالمی ادیبوں کے چار تراجم پر مشتمل ہے۔