ہماری قیمت:
USD 6.25
اردو ناول اور سفر نامہ نگاری میں مستنصر حسین تارڑ کا نام کون نہیں جانتا۔آج تک یہ فیصلہ نہیں ہو پایا کہ تارڑ ایک اچھا ناول نگار ہے یا سفر نامہ نگار۔کیونکہ وہ دونوں اصناف میں ایک سے ایک بڑھ کر ایک پوٹینشل اور اسلوب اور موضوع کے افق پر صورت پذیر ہوتا ہے۔اس طرح کے ادیب کی مثال اس سے پہلے ہمیں ابن انشا کے ہاں ملتی ہے جو بیک وقت ایک اچھا شاعر،سفر نامہ نگار ،اور کالم نویس تھا۔زیر نظر کتاب ڈاکیا اور جولاہا تارڑ کا ایک منفرد نوعیت کا ناول ہے جو صیغہ واحد متکلم کی زبان سے تحریر کیا گیا ہے۔اس ناول کا پلاٹ دراصل تارڑ کی مشہور کتاب کے ٹو کہانی کے ایک واقعے سے اٹھایا ہے جس میں تارڑ از راہ مذاق ایک ڈاکیے سے پوچھتا ہے کہ کیا وہ یہاں تک بھی میرے نام کے خط پنہچا سکے گا۔ناول میں ہم جنس پرستوں کی باہم شادی کا موضوع بھی چھیڑا گیا ہے جو تارڑ کے شائقین کے لیے باعث حیرت بھی ہو سکتا ہے۔
یقینا تارڑ کا یہ ناول اس کے اہم ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔